دبئی: پاکستان کرکٹ بورڈ کے
چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف کرکٹ سیریز کا امکان اب
انتہائی کم ہے اگر بی سی سی نے آگاہ نہ کیا تو سیریز کے دروازے بند ہی
سمجھے جائیں۔
دبئی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہریار خان کا کہنا تھا کہ بھارت کے
خلاف سیریز نہ ہونے سے پی سی بی کو مالی نقصان ہوگا تاہم اگر بی سی سی آئی
نے چار پانچ روز میں سیریز سے متعلق آگاہ نہ کیا تو سیریز کے دروازے بند ہی
سمجھے جائیں اور اب دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا امکان معدوم ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ بہتر طریقے سے جاری ہے اور مستقبل میں بھی
قومی ٹیم اپنی کامیابیوں کا سفر جاری رکھے گی۔
ایک سوال پر چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے
چیئرمین ششانک منوہر کی بیوی نے میری اہلیہ کو صرف ممبئی میں شاپنگ کی دعوت
دی تھی تاہم میری بیوی کسی بیک چینل ڈپلومیسی یا کرکٹ تعلقات کی بحالی میں
شامل نہیں۔
Saturday, October 24, 2015
Thursday, October 22, 2015
نیپرانے بجلی کی قیمتوں میں 2روپے 88پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی
ہندوستان سے بجلی درآمد کا منصوبہ ترک کردیا گیا
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں جاری بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہندوستان سے 4000 میگا واٹ تک بجلی کی درآمدگی کا منصوبہ روک دیا گیا ہے ۔وزارت پانی و بجلی کے ایک سینیئر عہدیدار نے مقامی اخبار کو بتایا کہ ’ہم کس طرح ہندوستان سے بجلی کی درآمد کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جبکہ وہاں پاکستان مخالف جذبات اپنی انتہا پر موجود ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں موجودہ مودی انتظامیہ نہ صرف پاکستان کے خلاف انتہائی تعصبانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے بلکہ وہ مذاکرات کی میز پر آنے سے بھی انکار کررہی ہے. دوسری جانب ہندوستانی حکومت وہاں پاکستانی گلوکاروں، مصنفین اور کھلاڑیوں کے خلاف انتہا پسند ہندوو ¿ں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی بھی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔گذشتہ روز پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے سینیٹ کو بتایا تھا کہ اپریل 2012 میں پاکستان اور ہندوستان کے حکام نے ہندوستان سے 500 میگاواٹ بجلی کی درآمد کے منصوبے پر بات چیت کا آغاز کیا تھا اور اس کے دو سال کے بعد 2014 میں ہندوستان سے عدانی انٹر پرائز لمیٹڈ (اے ای ایل) کی جانب سے پاکستان کا دورہ کیا گیا تاکہ اس حوالے سے مزید بات چیت کی جاسکے۔اپنے تحریری بیان میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ کس طرح اے ای ایل نے اپنے ڈرافٹ میں وزارت کو پیش کش کی کہ آئندہ 2 سے 3 سالوں میں 500 سے 800 میگاواٹ بجلی برآمد کی جاسکتی ہے جبکہ یہ تجویز بھی دی گئی کہ اسے 3500 سے 4000 میگاواٹ تک بڑھایا جاسکتا ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید کوئی اہم پیش رفت سامنے نہیں آئی۔انھوں نے سینیٹ کو ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں تاجکستان اور کرغزستان سے بجلی کی درآمد کے منصوبوں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور ایران کے درمیان ایک ہزار میگا واٹ بجلی کی درآمد کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اور اس درآمد میں 3000 میگا واٹ تک کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان بلوچستان کو فراہم کی جانے والی 74 میگا واٹ بجلی میں مزید 30 میگاواٹ بجلی کے اضافے پر بات چیت جاری ہے، اس کے علاوہ گوادر پورٹ کے لیے علیحدہ سے ایران سے مزید 100 میگا واٹ بجلی، جو کہ فی یونٹ 6.25 روپے یونٹ ہوگی، کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے۔یاد رہے کہ پاکستان نے موسم گرما (جب پیدوار میں کمی اور طلب میں اضافے کے باعث ملک کو بجلی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے) میں وسطی ایشیا کی دو ریاستوں تاجکستان اور کرغزستان سے 1000 سے 1300 میگا واٹ بجلی درآمد کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔
Tuesday, October 20, 2015
اسلام آباد: تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہےکہ وفاقی حکومت سیاستدانوں کے احتساب کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے عوام سے کرپشن کے خلاف جنگ کا وعدہ کیا تھا لیکن وفاقی حکومت خیبرپختونخوا احتساب کمیشن کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہے جب کہ سیاستدانوں کے احتساب کی راہ بھی وفاقی حکومت رکاوٹ بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک اثاثے رکھنے والے کرپٹ لیڈر اکٹھا ہوگئے ہیں اور کارروائی ہونے پر مل کر سیاسی انتقام کا واویلا کرتے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے عوام سے کرپشن کے خلاف جنگ کا وعدہ کیا تھا لیکن وفاقی حکومت خیبرپختونخوا احتساب کمیشن کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہے جب کہ سیاستدانوں کے احتساب کی راہ بھی وفاقی حکومت رکاوٹ بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک اثاثے رکھنے والے کرپٹ لیڈر اکٹھا ہوگئے ہیں اور کارروائی ہونے پر مل کر سیاسی انتقام کا واویلا کرتے ہیں۔
ضمنی انتخاب میں سرکاری وسائل کا استعمال، ایاز صادق سے جواب طلب ٓ
اسلام آباد (آن لائن ) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقہ این اے 122لاہور کے ضمنی انتخاب میں سرکاری وسائل استعما کرنے کے معاملے پر نو منتخب رکن قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے جواب طلب کرتے ہوئے 29اکتوبر کو الیکشن کمیشن پیش ہونے کا حکم کر دیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز چوڈیشل ایکٹوازم پینل نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حلقہ این اے 122کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے سرکاری وسائل کا استعمال کیا ہے اور الیکشن مہم کے دوران اور پولنگ کے دن سرکاری گاڑیاں استعما ہوتی رہی ہیں اور ووٹرز کو سہولیات دینے کے لیے سرکاری ملازمین کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں لاہور ہائی کورٹ نے چوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو سماعت کی ہدایت کی تھی اور چیف الیکشن کمشنر رسردار رضا خان کو سماعت کے لیے مقرر کیا ہے عدلتی حکم کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان اسلام آباد میں سماعت کریں گئے ،الیکشن کمیشن نے درخواست کی سماعت کے لیے نو منتخب رکن قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے جواب طلب کر لیا ہے اور انہیں 29اکتوبر کو سماعت کے لیے الیکشن کمیشن میں طلب کر لیا ہے ۔
Monday, October 19, 2015
لندن: سماجی رابطے کی ویب
سائیٹ فیس بک کی انتظامیہ ایسی نئی ٹیکنالوجی پر کام کررہی ہے جس کے ذریعے
نابینا افراد بھی تصاویر اور پوسٹ کے بارے میں بہت کچھ جان سکیں گے یعنی
کسی تصویر کو بیانیہ انداز میں دیکھ سکیں گے۔
اگرچہ نابینا حضرات اسکرین ریڈرز کی مدد سے ظاہر ہونے والے ٹیکسٹ کو سن سکتے ہیں ؛لیکن فیس بک پر ذیادہ تر تصاویر شیئر کی جاتی ہیں اور اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے بصارت سے محروم افراد تصویر کو ’دیکھ ‘ سکیں گے۔ فیس بک کی ایسیسبلٹی ٹیم کے سربراہ جیف وائیلینڈ کے مطابق اس وقت فیس بک کے صارفین کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کرچکی ہے لیکن اب کوشش کی جارہی ہے کہ نابینا حضرات بھی کسی طرح فیس بک تصاویر سے استفادہ کرسکیں اور اس کے لیے ایپ پر کام جاری ہے۔ فیس بک میں کام کرنے والے نابینا انجینیئر میٹ کنگ کے مطابق بہت سے نابینا افراد یہ جاننے سے قاصر رہتے ہیں کہ تصویرمیں درحقیقت کس شے کو دکھایا گیا ہے۔
توقع ہے کہ اس ایپ کے ذریعے تصویر میں موجود اہم چیزوں کے نام لکھے نظر آئیں گے مثلاً عمارت، درخت یا قدرتی منظر وغیرہ۔ کوشش کی جائے گی کہ بصارت سے محروم افراد کسی تصویر میں 50 فیصد تفصیلات سے آگاہ ہوجائیں تاہم فیس بک نے اس کی بہت تفصیلات بیان نہیں کی ہے۔
اگرچہ نابینا حضرات اسکرین ریڈرز کی مدد سے ظاہر ہونے والے ٹیکسٹ کو سن سکتے ہیں ؛لیکن فیس بک پر ذیادہ تر تصاویر شیئر کی جاتی ہیں اور اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے بصارت سے محروم افراد تصویر کو ’دیکھ ‘ سکیں گے۔ فیس بک کی ایسیسبلٹی ٹیم کے سربراہ جیف وائیلینڈ کے مطابق اس وقت فیس بک کے صارفین کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کرچکی ہے لیکن اب کوشش کی جارہی ہے کہ نابینا حضرات بھی کسی طرح فیس بک تصاویر سے استفادہ کرسکیں اور اس کے لیے ایپ پر کام جاری ہے۔ فیس بک میں کام کرنے والے نابینا انجینیئر میٹ کنگ کے مطابق بہت سے نابینا افراد یہ جاننے سے قاصر رہتے ہیں کہ تصویرمیں درحقیقت کس شے کو دکھایا گیا ہے۔
توقع ہے کہ اس ایپ کے ذریعے تصویر میں موجود اہم چیزوں کے نام لکھے نظر آئیں گے مثلاً عمارت، درخت یا قدرتی منظر وغیرہ۔ کوشش کی جائے گی کہ بصارت سے محروم افراد کسی تصویر میں 50 فیصد تفصیلات سے آگاہ ہوجائیں تاہم فیس بک نے اس کی بہت تفصیلات بیان نہیں کی ہے۔
نئی دلی: بھارت کی ہندو
انتہا پسند تنظیم شیوسینا کے دہشت گردوں نے نہ پہلے چیرمین پی سی بی شہریار
خان کی موجودگی میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر پر حملہ کیا اور پھر
’ہندوسینا‘ کے بلوائیوں نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم رکن اسمبلی راشد انجینئر
کو زدو کوب کیا اور ان کے منہ پر سیاہی پھینک دی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مسلم رکن اسمبلی راشد انجینئر بھارتی دارالحکومت نئی دلی کے پریس کلب میں تھے کہ ہندو سینا کے بلوائیوں نے انھیں پہلے زدو کوب کیا اور پھر ان کے منہ پر سیاہی پھینک دی۔ انجینئر راشد کا اس موقع پر کہنا تھا کہ حملے سے ثابت ہو گیا کہ یہ مودی کا بھارت ہے گاندھی کا نہیں، پاکستان پر طالبانائزیشن کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن دنیا دیکھے کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے۔
قبل ازیں چیرمین پی سی بی شہریار خان کی ممبئی آمد پر شیو سینا کے غنڈوں نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بول دیا جس کی وجہ سے شہریار خان کی بھارتی حکام کے ساتھ میٹنگ کو ممبئی سے نئی دلی میں کسی خفیہ مقام پر منتقل کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی انتہا پسند ہندوؤں نے مسلم رکن اسمبلی راشد انجینئر کو مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مسلم رکن اسمبلی راشد انجینئر بھارتی دارالحکومت نئی دلی کے پریس کلب میں تھے کہ ہندو سینا کے بلوائیوں نے انھیں پہلے زدو کوب کیا اور پھر ان کے منہ پر سیاہی پھینک دی۔ انجینئر راشد کا اس موقع پر کہنا تھا کہ حملے سے ثابت ہو گیا کہ یہ مودی کا بھارت ہے گاندھی کا نہیں، پاکستان پر طالبانائزیشن کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن دنیا دیکھے کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے۔
قبل ازیں چیرمین پی سی بی شہریار خان کی ممبئی آمد پر شیو سینا کے غنڈوں نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بول دیا جس کی وجہ سے شہریار خان کی بھارتی حکام کے ساتھ میٹنگ کو ممبئی سے نئی دلی میں کسی خفیہ مقام پر منتقل کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی انتہا پسند ہندوؤں نے مسلم رکن اسمبلی راشد انجینئر کو مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
میلبرن: آسٹریلیا کے ایک
ڈاکٹر کے مطابق سات سال تک کے بچوں میں ٹیکسٹ کرنے کا جنون ان کی گردن اور
ریڑھ کی ہڈیوں پر اثرانداز ہوکر انہیں ’کبڑا‘ بنارہا ہے اور ان کے مہرے
ٹیڑھے ہورہے ہیں۔
ڈاکٹر جیمز کارٹر کے مطابق یہ نئی اور پریشان کن صورتحال ٹیکنالوجی کے بے تحاشہ استعمال کی وجہ سے سامنے آئی ہے اور اس سے سب سے ذیادہ اسکول جانے والے بچے متاثر ہورہے ہیں۔ اس نئی کیفیت کو ’’ٹیکسٹ نیک یا ٹیکسٹ گردن‘‘ کہا گیا ہے اور ایک 16 سال کی لڑکی اور 17 سال کا ایک نوجوان پہلے ہی اس سے متاثر ہوچکے ہیں کیونکہ ان کی کمر اور گردن خمدار ہوچکی ہے کیونکہ وہ دن میں کئی گھنٹے تک گردن جھکاکر اپنے فون کو دیکھتے رہتے تھے اور ایس ایم ایس کرتے رہے تھے۔
ٹیکسٹ کرنے کی لت میں مبتلا کئی نوعمر بچے اور جوان ڈاکٹروں کے پاس کمر، گردن اور سردرد کی شکایت لے کر آرہے ہیں اور ان کے ایکسرے میں مہروں اور گردن کا خم صاف نظر آتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق گردن کو غیرضروری طور پر جھکانے اور موڑنے سے اس کی ہڈیاں 4 سینٹی میٹر تک کھسک سکتی ہیں اور اسمارٹ فون کے مسلسل استعمال سے گردن کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ اس کا بہتر حل ہے کہ موبائل فون کو بار بار دیکھنے سے گریز کیا جائے۔
پاکستانی بچے بھی دن میں 50 سے زائد مرتبہ فون پر نظر جماتے ہیں اور گھنٹوں واٹس ایپ استعمال کرتے ہوئے ٹیکسٹ میں محورہتے ہیں اور دن میں چار گھنٹے تک فون پر گزارتے ہیں۔
دوسری جانب ڈاکٹر خبردار کررہے ہیں کہ اگر یہ مرض شدت اختیار کر جائے تو بسا اوقات آپریشن کے بغیر کوئی اور چارہ نہیں رہ جاتا ۔ اسی لیے ٹیکسٹ کرتے وقت ٹھوڑی کو سینے سے دور رکھیئے۔ دوسری خطرناک بات یہ ہے کہ گردن جھکانے سے اینڈورفنز اور سیروٹونن جیسے اہم ہارمون کا اخراج رک جاتا ہے اور اس سے بے چینی اور پریشانی میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔
اگرچہ انسانی سر کا وزن 10 سے 12 پونڈ ہوتا ہے لیکن گردن کو 15 درجے پر جھکانے سے اس کا بوجھ 27 پونڈ تک ہوجاتا ہے اور 60 درجے پر جھکانے سے 60 پونڈ ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹر جیمز کارٹر کے مطابق یہ نئی اور پریشان کن صورتحال ٹیکنالوجی کے بے تحاشہ استعمال کی وجہ سے سامنے آئی ہے اور اس سے سب سے ذیادہ اسکول جانے والے بچے متاثر ہورہے ہیں۔ اس نئی کیفیت کو ’’ٹیکسٹ نیک یا ٹیکسٹ گردن‘‘ کہا گیا ہے اور ایک 16 سال کی لڑکی اور 17 سال کا ایک نوجوان پہلے ہی اس سے متاثر ہوچکے ہیں کیونکہ ان کی کمر اور گردن خمدار ہوچکی ہے کیونکہ وہ دن میں کئی گھنٹے تک گردن جھکاکر اپنے فون کو دیکھتے رہتے تھے اور ایس ایم ایس کرتے رہے تھے۔
ٹیکسٹ کرنے کی لت میں مبتلا کئی نوعمر بچے اور جوان ڈاکٹروں کے پاس کمر، گردن اور سردرد کی شکایت لے کر آرہے ہیں اور ان کے ایکسرے میں مہروں اور گردن کا خم صاف نظر آتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق گردن کو غیرضروری طور پر جھکانے اور موڑنے سے اس کی ہڈیاں 4 سینٹی میٹر تک کھسک سکتی ہیں اور اسمارٹ فون کے مسلسل استعمال سے گردن کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ اس کا بہتر حل ہے کہ موبائل فون کو بار بار دیکھنے سے گریز کیا جائے۔
پاکستانی بچے بھی دن میں 50 سے زائد مرتبہ فون پر نظر جماتے ہیں اور گھنٹوں واٹس ایپ استعمال کرتے ہوئے ٹیکسٹ میں محورہتے ہیں اور دن میں چار گھنٹے تک فون پر گزارتے ہیں۔
دوسری جانب ڈاکٹر خبردار کررہے ہیں کہ اگر یہ مرض شدت اختیار کر جائے تو بسا اوقات آپریشن کے بغیر کوئی اور چارہ نہیں رہ جاتا ۔ اسی لیے ٹیکسٹ کرتے وقت ٹھوڑی کو سینے سے دور رکھیئے۔ دوسری خطرناک بات یہ ہے کہ گردن جھکانے سے اینڈورفنز اور سیروٹونن جیسے اہم ہارمون کا اخراج رک جاتا ہے اور اس سے بے چینی اور پریشانی میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔
اگرچہ انسانی سر کا وزن 10 سے 12 پونڈ ہوتا ہے لیکن گردن کو 15 درجے پر جھکانے سے اس کا بوجھ 27 پونڈ تک ہوجاتا ہے اور 60 درجے پر جھکانے سے 60 پونڈ ہوجاتا ہے۔
Monday, October 12, 2015
حقیقات کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ووٹ آخری لمحوں میں حلقے سے باہر کیسے گئے
سلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ وہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ آخری لمحوں میں تحریک انصاف کے ووٹ حلقے سے باہر کیسے منتقل ہوئے ،این اے 122ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کی اخلاقی فتح ہے ۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عمران خان نے اپنے جاری کر دہ پیغام میں کہا ہے کہ وہ علیم خان اور شعیب صدیقی کو وفاقی اور صوبائی حکومت کیخلاف شاندار مقابلے پر مبارک باد دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ علیم خان نے وفاقی اور صوبائی حکومت کا ضمنی انتخاب میں ڈٹ کر مقابلہ کیا اور یہ تحریک انصاف کی اخلاقی فتح ہے ۔
Subscribe to:
Posts (Atom)















